بھٹکل 26/ستمبر (ایس او نیوز) بھٹکل میں ایک مکان کے اندر گھس کر ایک ڈیڑھ سالہ بچی کو اغوا کرکے لے جانے کی کوشش اُس وقت ناکام ہوگئی جب بچی کی ماں نے عین وقت پر بچی کو اُٹھاکر باہر بھاگتے ہوئے اغوا کار کو دیکھ لیا۔ جیسے ہی خاتون نے چلانا اور چینخنا شروع کیا، اغوا کار بچی کو کمپاونڈ میں ہی اُتارکر فرار ہوگیا۔ واردات بدھ کی صبح قریب 8:30 بجے مدینہ کالونی، جامعہ آباد روڈ پر پیش آئی۔
بچی کے نانا جناب محمد سائب بافقی نے بتایا کہ اسکول ٹمپو چھوٹ جانے کی وجہ سے ان کا بیٹا صبح 8:15 بجے ایک لڑکے کو قریب ہی واقع اسکول میں چھوڑنے کے لئے اسکوٹر لے کر نکلا تھا، جس کی وجہ سے گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ بچی کی ماں بھی گھر کے اندر کچن میں لائٹ آف کرنے اندر گئی تھی، بچی گھر کے پہلے کمرے میں سورہی تھی، اچانک اُس نے دیکھا کہ کوئی بچی کو لے کر باہر بھاگ رہا ہے، محمد سائب کی بیٹی یعنی بچی کی ماں فوراً اُس کے پیچھے باہر بھاگی اور چینخنا چلانا شروع کردیا، ہڑبڑاہٹ میں قریب ہی پڑی ہوئی چپلیں بھی اُس پر پھینکنی شروع کردی، چینخنے چلانے سے دائیں طرف واقع پڑوس کے لوگ باہر آگئے ۔ خطرے کو بھانپتے ہوئے متعلقہ شخص بچی کو کمپاونڈ میں ہی اُتار کر مین گیٹ کے بجائے بائیں طرف واقع چھوٹی گیٹ کے راستے سے فرار ہوگیا۔ بچی کی ماں کا کہنا ہے کہ بچی کو اُٹھاکر بھاگتے ہوئے اُس نے صرف یہ دیکھا کہ وہ نیلے رنگ کا ٹی شرٹ پہنا ہوا تھا اور سر پر ہیلمٹ تھی ۔
واقعے کے بعد علاقہ کے عوام حیرت کا اظہار کررہے ہیں کہ جامعہ آباد اور تینگن گنڈی جانے والی اس مصروف سڑک پر وہ کون شخص ہوسکتا ہے جو ہیلمٹ پہن کر نہ صرف مین گیٹ سے صحن میں داخل ہوا بلکہ گھر کے اندر بھی گھسنے میں کامیاب ہوا۔ جناب محمد سائب بافقی صاحب شک کا اظہار کررہے ہیں کہ غالباً وہ شخص پہلے سے ہی کمپاونڈ کے اندر کہیں چھپ کر بیٹھا ہوگا، جیسے ہی ان کا بیٹا اسکول جانے کے لئے نکلا، فوراً وہ گھر کے اندر گھس گیا اور سامنے ہی موجود بچی کو اُٹھا کر بھاگنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق ان کا بیٹا لڑکے کو اسکول میں ڈراپ کرکے دس منٹ کے اندر واپس گھر پہنچا تھا اور یہ دس منٹ کے اندر کا واقعہ ہے۔جناب محمد سائب نے یہ بھی بتایا کہ مکان کے اندر وہ خود بھی آرام کررہے تھے اور دیگر افراد خانہ بھی موجود تھے۔
گھر کے پاس پڑوس میں واقع مکانوں اور دکانوں میں لگے سی سی ٹی کیمرے کنگالے جارہے ہیں، چونکہ اغوا کرنے کی کوشش کرنے والا شخص گھر کے بائیں جانب والی گیٹ سے بھاگا تھا، اس بنا پر غالب گمان یہی ہے کہ وہ بائیں جانب یعنی تینگنگونڈی کی طرف بھاگا ہے۔پولس میں شکایت دینے کے بعد پولس کی مختلف ٹیمیں بھی گھر پہنچ کر چھان بین کررہی ہیں، پاس پڑوس کے لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔
بھٹکل میں گذشتہ کچھ دنوں سے اسکول اور ٹیوشن سے گھر لوٹنے والی لڑکیوں کو گھر چھوڑنے کے نام پر بائک پر بٹھاکر کہیں لے جانے پھر واپس گھر کے قریب چھوڑے جانے کی خبریں وہاٹس ایپ پر گردش کررہی تھی، جس کے بعد اسکولوں اور کالجوں کے باہر کسی منچلے شخص کی جانب سے لڑکیوں کو "لو لیٹر" دینے کی بات بھی سنی جارہی تھی، مگر تازہ واردات میں چھوٹی بچی کو اغوا کرکے لے جانے کی اس ناکام کوشش سے شہر کےعوام سخت تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔